میں نے اپنی بیٹی فاطمہ پیر کے بچوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے بھیجی تھی۔ پھر میری بیٹی کی یہ حالت کیوں کی گئی کہ اس کی لاش واپس آئی۔ میں پیر اور بی بی (پیر کی اہلیہ) کو ہرگز معاف نہیں کروں گی۔‘
شبانہ پھرڑو ہر آنے والے صحافی، انسانی حقوق کے کارکن اور تفتیشی پولیس اہلکاروں کو یہ دہائی دیتی ہیں۔
گذشتہ ماہ 13 اگست کو 10 سالہ فاطمہ صوبہ سندھ کے علاقے رانی پور کے ایک پیر کی حویلی میں ہلاک ہو گئی تھیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم پیر اسد شاہ کو گرفتار کیا جبکہ اُن کی اہلیہ حنا شاہ اپنے والد پیر فیاض شاہ کے ساتھ بدستور مفرور ہیں اور پولیس انھیں گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔
اطمہ کی والدہ شبانہ پھرڑو نو ماہ قبل اپنی بیٹی کو بطور ملازمہ حویلی پر چھوڑ کر آئی تھیں اور اس کے بعد انھیں اپنی بیٹی کو گھر لے جانے کی کبھی اجازت نہیں ملی۔
شبانہ پھرڑو بتاتی ہیں کہ ملزم پیر اسد شاہ کے بچے اور فاطمہ تقریباً ہم عمر تھے۔
’پیر فیاض نے کہا کہ فاطمہ کو حویلی چھوڑ جاؤ، وہ اُن کے (بچوں) ساتھ کھیلے گی۔ میں نے یہ کہہ کر منع کیا کہ آپ کی بیٹی سخت طبیعت کی مالک ہیں، جس پر پیر فیاض کہنے لگے کہ نہیں وہ بچی کو خوش رکھے گی۔‘
شبانہ پھر اپنی بیٹی کو حویلی چھوڑ آئیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ اس نو ماہ کے دوران انھیں دو سے تین بار ہی فاطمہ سے ملنے دیا گیا۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’حویلی کے گیٹ کے باہر پانچ سات منٹ ملاقات ہوتی تھی۔ فاطمہ کے ساتھ ایک ملازمہ ہوتی تھی تاکہ اس پر نظر رکھ سکے جبکہ سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگے ہوئے تھے۔ اس لیے فاطمہ کوئی بات نہیں بتاتی تھی نہ کسی تکلیف کا ذکر کرتی تھی۔‘
بقول ان کے فاطمہ کی ملازمت کے عوض انھیں تین ہزار روپے ملتے تھے۔
شبانہ آخری بار 28 جولائی کو اپنی بیٹی سے ملنے گئی تھیں اور ان کے مطابق انھوں نے فیاض شاہ کی منت سماجت کی کہ خاندان میں شادی ہے اس لیے فاطمہ کو ساتھ لے جانے دیں مگر فیاض شاہ نہیں مانے اور پھر وہ واپس لوٹ آئیں۔
شبانہ کے شوہر بھی اپنی بیٹی کو لینے حویلی گئے لیکن انھیں بھی ناکام لوٹنا پڑا۔ اور پھر بلآخر اس کی لاش واپس آئی۔
شبانہ بتاتی ہیں کہ ’جب ہم نے فاطمہ کو دفن کیا تو اس کے بازوؤں، گلے پر تشدد کے نشانات تھے۔ بال نوچے ہوئے تھے جبکہ ایک بازو بھی ٹوٹا ہوا تھا۔ ہم نے فاطمہ کے زخم تو دیکھے لیکن اس پر ہونے والا ظلم نہیں دیکھا تھا۔‘
ہ اپنی بیٹی کو حویلی چھوڑ آئیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ اس نو ماہ کے دوران انھیں دو سے تین بار ہی فاطمہ سے ملنے دیا گیا
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز
فاطمہ پھرڑو کی والدہ شبانہ نے ابتدائی طور پر مقدمہ درج کرانے سے انکار کیا تھا لیکن اسی عرصے میں سوشل میڈیا پر دو ویڈیوز وائرل ہوئیں۔ ان ویڈیوزمیں سے ایک میں لاش پر تشدد کے مبینہ نشانات تھے جبکہ دوسری ایک سی سی ٹی وی فوٹیج تھی جو حویلی سے فاطمہ کی لاش گاؤں لانے والے نوجوانوں کے اصرار پر انھیں حویلی سے دی گئی تھی۔
فاطمہ کی لاش گاؤں لانے والے نوجوانوں میں سے ایک محمد حسن پھرڑو بتاتے ہیں کہ دوپہر دو ڈھائی بجے کا وقت تھا جب رانی پور سے ان کے رشتہ دار نے فون کر کے گاؤں میں بتایا کہ فاطمہ فوت ہو گئی ہے۔
محمد حسن پھرڑو کے مطابق فاطمہ کے والدین غریب ہیں اس لیے وہ تین دوست لاش لینے کے لیے بائیک پر روانہ ہو گئے۔
’حویلی پہنچے تو خاموشی تھی۔ پھر ڈیرے پر گئے۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد فیاض شاہ نکل کر آئے۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ فاطمہ کیسے فوت ہو گئی؟ انھوں نے ڈاکٹر اور لیبارٹری کی رپورٹس دکھائیں۔ ہم نے کہا کہ وہ تو ٹھیک تھی جس پر انھوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج دیتا ہوں۔ اس کے والدین کو دکھانا لیکن کسی اور کو نہ دکھانا۔ ایک گھنٹے انتظار کے بعد فون سے سکرین ریکارڈ کر کے ہمیں دے دی۔‘
محمد حسن نے بتایا کہ انھوں نے یہ ویڈیو والدین اور رشتے داروں کو دکھائی لیکن کوئی اعتبار نہیں کر رہا تھا اور جب صبح فاطمہ کی تدفین سے قبل اس کو غسل کرایا گیا تو اس کے جسم پر تشدد کے نشان موجود تھے۔
غسل سے قبل بھی بچی کی ایک ویڈیو بنائی گئی جو محمد حسن کے مطابق ان کی ایک کزن نے بنائی تھی، جس کے بعد یہ دونوں ویڈیوز ساتھ شیئر ہونے لگیں۔
ایس ایس پی خیرپور روحل کھوسو کہتے ہیں کہ ’ایس ایچ او رانی پور فاطمہ کی والدہ کے پاس کارروائی کے لیے گئے تھے لیکن انھوں نے کہا کہ ان کی بچی بیمار تھی اور دوایاں بھی دکھائیں لیکن بعد میں سوشل میڈیا نے اہم کردار ادا کیا۔ پولیس دوبارہ والدہ کے پاس پہنچی، جس کے بعد وہ مقدمہ درج کرانے کے لیے راضی ہوئیں۔‘
دوسری جانب اس بارے میں فاطمہ پھرڑو کی والدہ کہتی ہیں کہ ان کی تین اور رشتے دار لڑکیاں بھی پیر کے گھر موجود تھیں جب وہ واپس آ گئیں تو انھوں نے مقدمہ درج کرایا۔
’ایک مرتبہ بی بی نے اتنا مارا کہ میرا منہ خون سے بھر گیا‘نسرین کے والد اور ایک بھائی قتل کے الزام میں جیل میں ہیں اور ان سمیت چار ایسے خاندان ہیں، جن کے مرد مقامی تنازعات میں ہونے والے قتل کے الزامات میں گرفتار ہیں۔
ان ہی خاندانوں کی نو عمر لڑکیاں مختلف حویلیوں میں کام کر رہی ہیں۔
نسرین جن کی عمر اٹھارہ سال کے لگ بھگ ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ اُن کے والد جیل میں ہیں، گھر میں آٹا تک نہیں تھا تو والدہ اور چھوٹی بہن وہاں حویلی میں کام کرتے جبکہ چھوٹا بھائی چچا کے گھر رہتا تھا۔‘
ایک اور لڑکی نورین کے والد اور بھائی بھی جیل میں ہیں اور ان پر بھی قتل کا الزام ہے۔
انھوں نے پیر خاندان سے انصاف کے حصول کے لیے مدد مانگی تھی اور اس آسرے میں وہ وہاں ملازمت کرتی رہیں کہ پیر قانونی معاملات میں ان کی مدد کریں گے، لیکن اب ان کا الزام ہے کہ انھوں نے اُن کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا۔
’ہم نے کہا کہ ہمارا کوئی سمجھوتہ کروا دیں تاکہ ابو اور بھائی چھوٹ جائیں۔ اسی مجبوری میں وہاں کام کر رہے تھے۔ ایک غربت اور دوسری مجبوری نے ہمیں اسد شاہ کے گھر بٹھا دیا۔‘
نورین بتاتی ہیں کہ وہاں مار پٹائی بہت زیادہ تھی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ایک مرتبہ بی بی نے اتنا مارا کہ میرا منہ خون سے بھر گیا۔ پھر بی بی نے کہا کہ یہ خون پی جاؤ۔ میں نے پیروں کو بھی تشدد کی شکایت کی لیکن انھوں نے نہیں سنی۔‘
فاطمہ کی ہلاکت سے تقریبا ڈیڑھ سال قبل نورین تشدد کی شکایت کے ساتھ گاؤں واپس پہنچی تھیں لیکن ان کی بات نہ تو سنی گئی اور نہ ہی کوئی ایکشن ہوا۔
وہ بتاتی ہیں کہ ایک روز وہ حویلی سے بھاگ نکلیں۔ ’میرا دماغ اتنا خراب ہو گیا تھا کہ سوچا کسی پل سے چھلانگ لگاؤں گی یا گاڑی کے نیچے آ جاؤں گی۔ جب وہاں سے نکلی تو رشتے دار راستے میں مل گئے، انھیں شکایت کی تو انھوں نے پیروں کو اور گاؤں والوں کو بھی بتایا لیکن کسی نے اعتبار نہیں کیا اور کہا کہ ہمارے مرشد ایسے نہیں۔‘
،تصویر کا کیپشن
خیرپور ضلع میں واقع رانی پور کی درگاہ 17ویں صدی میں قائم ہوئی تھی اور یہاں زیادہ تر سندھ اور بلوچستان سے عقیدت مند آتے ہیں
’میری دس سال کی بیٹی کو بی بی نے آنکھ پر مکا مارا‘
علی احمد گاؤں تقریباً دو سو گھروں پر مشتمل ہے، جو نوشہرو فیروز ضلع کے قصبے خانواہن میں واقع ہے۔ یہاں زیادہ تر مکانات مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ ایک پرائمری سکول ہے جبکہ ایک بڑی اور پکی امام بارگاہ بھی ہے۔
اس گاؤں کے لوگ زیادہ تر کسان ہیں۔ کچھ کے پاس اپنی زمینوں کے چھوٹے ٹکڑے ہیں، تقریباً تمام ہی قریبی رشتے دار ہیں اور رانی پور کے پیروں کے مرید ہیں۔
نسرین ہو یا فاطمہ کا خاندان، ان کے پاس کوئی چھت نہیں صرف دیواریں ہیں۔ ان کے گھر گر چکے ہیں اور یہ لوگ دوپہر کا وقت آس پڑوس میں گزارتے ہیں۔ ان گھرانوں کے پاس روزگار کا کوئی مستقل وسیلہ بھی دستیاب نہیں۔
یہاں کی ایک رہائشی زیب النسا نے بھی اپنی بیٹی کو بھی حویلی میں ملازمہ رکھوایا تھا لیکن پھر وہ اسے واپس لے آئیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کے خاندان کے چار مرد گرفتار ہیں۔
’جج ضمانت نہیں دیتا، پھر اسی مجبوری میں کہ پیر سمجھوتہ کرا دیں گے، بچیاں حویلی میں کام کرتی رہیں لیکن انھوں نے سمجھوتہ نہیں کروایا۔‘
’میری دس سال کی بیٹی کو بی بی نے آنکھ پر مکا مارا، جس کی وجہ سے وہ دیکھ نہیں پا رہی تھی۔ اس نے کہا کہ امی میرا سر گھوم رہا ہے۔‘
زیب النسا نے الزام عائد کیا کہ بی بی حنا نے ان کی بیٹی کے چہرے پر میک اپ کیا اور کہا کہ والد کو جا کر بتانا کہ آنکھ پر ری ایکشن ہوا ہے اور اگر ایسا نہ کہا تو دوبارہ ماروں گی۔
بقول زیب النسا وہ اپنی بیٹی کو لے کر واپس گاؤں آ گئیں، جہاں پیر بچی کو لینے آیا تو وہ ڈر کر کھیتوں میں بھاگ گئی۔
0 Comments