جب 12 ستمبر کو نئے آئی فون کی رونمائی ہو گی تو اب یہ بات تقریباً یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ اس میں یو ایس بی سی چارج پوائنٹ ہو گا۔
اپنے حریف موبائل فون کے مقابلے میں اس وقت آئی فون لائٹنگ اڈاپٹر استعمال کرتا ہے جو صرف ایپل کے موبائل فونز کو چارج کرتے ہیں۔
صارفین کی بچت اور ماحول کے تناظر میں کچرے کو کم کرنے کے لیے یورپی یونین نے دسمبر 2024 تک موبائل بنانے والی کمپنیوں کو اس بات کے لیے پابند کیا تھا کہ وہ فونز میں ایک مشترکہ چارجنگ کنکشن رکھیں گے تاکہ تمام موبائل فونز ایک ہی قسم کی چارجنگ تار سے چارچ ہو جائیں۔
ایپل کے تقریباً تمام نئے پراڈکٹس جیسے کے تازہ ترین آئی پیڈ پہلے سے ہی یو ایس بی-سی کا استعمال کرتے ہیں تاہم ایپل نے یورپی یونین کے اس قانون کے خلاف اس سے قبل بھی توجیحات پیش کی ہیں۔
جب اس قانون کو ستمبر سنہ 2021 میں متعارف کروایا گیا تھا تو اس وقت ایپل کے ایک نمائندے نے بی بی سی نیوز کو بتایا تھا کہ ’صرف ایک قسم کے کنیکٹر کو لازمی قرار دینے والا سخت ضابطہ انوویشن کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے اسے روکتا ہے، جس کے نتیجے میں یورپ اور دنیا بھر میں صارفین کو نقصان پہنچے گا۔‘
’لائٹننگ ٹو یو ایس بی-سی‘ اڈیپٹرز دوسرے الیکٹرانک برینڈ جیسے ایمازون سے پہلے سے ہی دستیاب تھے لیکن 2017 میں آئی فون 8 کے آنے کے بعد آنے والے آئی فونز میں وائرلس چارجنگ دستیاب ہے۔
لگتا ہے کہ موجودہ آئی فون 14 وہ آخری فون ہو گا جو خصوصی طور پر لائٹننگ کیبل استعمال کرے گا جس کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ یہ اس کیبل کے اختتام کی ابتدا ہو۔
اس کی موجودہ قیمت دس پاؤنڈ ہے جو 7300 پاکستانی روپے سے زیادہ بنتی ہے۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ کیا یہ تبدیلی عالمی سطح پر کی جائے گی یا نہیں، تاہم اس کا امکان کم ہے کہ ایپل صرف یورپی مارکیٹ کے لیے ایک مختلف ورژن کی مصنوعات بنائے۔


0 Comments