
- بشیرت اولاڈیلے
- بی بی سی ورک لائف
سوشل میڈیا پر مواد تیار کرنے والی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ ملازمین کو کم کام کرنا چاہیے اور وہ بھی گھر پر رہ کر جس کی انھیں اچھی تنخواہ ملے۔ ان کی اس رائے سے یقیناً لاکھوں کروڑوں لوگ متفق ہوں گے۔
مئی میں 26 سالہ گیبریئل جج نے ٹک ٹاک فلم بنائی جس کا عنوان تھا ’لیزی گرل جاب‘ (یعنی سست لڑکی کی نوکری) جو ان کے مطابق کم تناؤ والی مکمل طور پر دفتر اور باس سے دور اچھی تنخواہ والی نوکری ہے۔
ڈھائی منٹ کی اس ویڈیو میں انھوں نے کہا کہ ’لیزی گرل جاب دراصل ایک ایسی نوکری ہے جو آپ کبھی بھی کسی بھی وقت چھوڑ سکتے ہیں۔ ایسی بہت سی نوکریاں ہیں جن میں آپ 60 سے 80 ہزار تک کما سکتے ہیں اور بہت زیادہ کام بھی نہیں کرنا پڑتا۔‘
مثال کے طور پر وہ غیر تکنیکی کاموں کی بات کرتی ہیں جن میں ان کے نزدیک صبح نو سے پانچ بجے کے درمیان ہی کام کرنا ہوتا ہے اور اتنی تنخواہ مل جاتی ہے کہ باآسانی گزر بسر ہو سکے۔
گبریئل کا یہ تصور جس کی ویڈیو وائرل ہو گئی بہت سے ملازمین کو بھایا خصوصاً خواتین کو۔ ان کی اس پوسٹ کو ساڑھے تین لاکھ افراد نے پسند کیا جبکہ لیزی گرل جاب ہیش ٹیگ کو 17 ملین سے زیادہ بار دیکھا گیا۔
بہت سی خواتین نے، جو ایسی ہی نوکریاں کر رہی ہیں، اپنے تجربات بتائے۔ ایک ویڈیو میں ایک خاتون نے کہا کہ وہ بس ’ای میلز کو کاپی پیسٹ کرتی ہیں، دن میں تین یا چار فون کالز لیتی ہیں اور ایک انتہائی طویل بریک کے ساتھ اچھی تنخواہ وصول کرتی ہیں۔‘
تاہم گبریئل اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ لیزی گرل جاب سستی سے ہی جڑی ہو۔
یہ نام دراصل ایک نئی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو استعفوں کی عالمی لہر کے دوران پنپی اور جس میں ملازمین بہتر تنخواہوں اور کام کے اوقات میں لچک کے خواہشمند ہیں۔ وہ اس تصور کو چیلنج کرتے ہیں کہ ملازمت کے اوقات کا کام سے تعلق ہے۔
توقعات
’لیزی گرل جاب‘ کی اصطلاح متعارف کروانے والی گبریئل جج
مواد پر جائیں
امریکہ کی ریاست کولوراڈو کی رہائشی گبریئل کو یہ تصور زیادہ کام کرنے کے بعد آیا۔ وہ کہتی ہیں کہ بطور کنسلٹنٹ ہفتے میں 50 سے 60 گھنٹے کام کرنا نارمل نہیں تھا جس نے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کو متاثر کیا۔
ان کے مطابق، لیزی گرل جاب دراصل ملازمین کے لیے نوکری کی اصطلاح کو ازسر نو طے کرنا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’تھکاوٹ اور بیماری کو نوکری کی دنیا کا حصہ نہیں ہونا چاہیے خصوصاً ایک ایسے وقت میں جب کام کے اوقات میں لچک اور خود مختاری دفتر سے دور رہ کر کام کرنے کی وجہ سے ممکن ہو گیا ہے اور ذہنی صحت ایک ترجیح بن چکی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ نوکری کا مثبت تجربہ کرنا ممکن ہے اور اب اس معاملے پر نئی نسل کھل کر بات بھی کر رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ لیزی گرل جاب شاید ہر کسی کے لیے مختلف ہو کیونکہ ہر ملازم کے حالات اور ضروریات الگ ہیں۔ کسی واضح تعریف کی بجائے ان کا کہنا ہے کہ ایسی نوکری کو چار شرائط پر پورا اترنا چاہیے۔
اول، محفوظ نوکری جس میں طویل اوقات یا دفتر کا تھکا دینے والا سفر نہ ہو اور کام کے حالات بھی پرخطر نہ ہوں۔ دوم، دفتر سے دوری۔ سوم، اچھی تنخواہ اور چوتھا کام اور ذاتی زندگی میں صحتمندانہ اعتدال۔
وہ کہتی ہیں کہ اس اصطلاح میں لیزی لفظ مذاق کے طور پر شامل کیا گیا تاہم ان کے نزدیک یہ اہم ہے۔
’میں جو بات کر رہی ہوں، اسے روایتی نوکری کی توقعات میں سستی ہی سمجھا جائے گا۔ میری کوشش ہے کہ یہ رواج ایک ذہنیت بن جائے۔‘
مونٹریال میں کیریئر کوچنگ کرنے والی ٹفنی امان کے لیے یہ ٹرینڈ حیران کن نہیں۔ وہ اسے ملازمت پیشہ خواتین کی بدلتی ہوئی خواہشات کی عکاسی کرتے ہوئے دیکھتی ہیں جو ایسی نوکریاں چاہتی ہیں جن میں وہ خوش رہیں، اچھی آمدن کمائیں اور ملازمت کے علاوہ ترجیحات کے لیے وقت نکال سکیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ملازمین اب پہلے کی نسبت نوکری اور گھریلو زندگی میں اعتدال چاہتے ہیں اور کسی بھی کام میں خود کو اتنا نہیں پھنسانا چاہتے جس سے ان کی نجی زندگی اور صحت متاثر ہو۔
الیانا گولڈ سٹین نیو یارک میں کیریئر کوچ ہیں، جن کا ماننا ہے کہ دہائیوں تک ملازمت سے جڑے روایتی تصورات اور کام کی کثرت کو رد کرنے کا ردعمل لیزی گرل جاب جیسے تصور کی شکل میں سامنے آیا۔
ان کا کہنا ہے کہ گبریئل کی جانب سے ایک عام فہم اصطلاح کا سامنے آنا اس معاملے پر بحث چھیڑنے کے لیے ضروری ہے۔



0 Comments