کمبھ کے میلے میں چار شہروں میں لاکھوں شرکا موجود ہوتے ہیں
- سوتک بسواس
- بی بی سی نیوز، انڈیا
دنیا میں انسانوں کے سب سے بڑے اجتماع کا اینٹی بائیوٹکس سے کیا تعلق ہے؟ اس کا جواب ہے بہت زیادہ۔
امریکہ میں قائم تنظیموں کے محققین – جنھیں لکشمی متل، ہارورڈ یونیورسٹی میں فیملی ساؤتھ ایشیا انسٹیٹیوٹ اور یونیسیف کی حمایت حاصل ہے – کو معلوم ہوا ہے کہ انڈیا میں کمبھ کے میلے میں کلینک وہاں آنے والے لاکھوں افراد کو اینٹی بائیوٹکس کی بھاری مقدار لینے کی ہدایت کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر افراد سانس لینے کی نالی میں انفیکشن سے متاثرہ ہوتے ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق اینٹی بائیوٹکس کے زیادہ استعمال کی صورت میں جسم میں اس کے خلاف مزاحمت کا خدشہ بڑھ جاتا ہے جسے ’اینٹی مائیکروبیل رزسٹنس‘ کہتے ہیں۔
یہ تب ہوتا ہے جب بیکٹیریا وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں اور انفیکیشن کے خلاف استعمال ہونے والی ادویات کے خلاف مزاحمت قائم کر لیتے ہیں۔ اس سے لوگوں میں اینٹی بائیوٹک رزسٹنس پر مبنی ’سپر بگ انفیکشنز‘ میں اضافہ ہوتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ یہ دنیا بھر میں صحت عامہ کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
طبی جریدے دی لینسٹ کے مطابق دنیا بھر میں اس مزاحمت سے 2019 میں اس سے 1.27 ملین اموات ہوئیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق 2050 تک یہ تعداد سالانہ ایک کروڑ تک پہنچ سکتی ہیں۔ اینٹی بائیوٹکس کو خطرناک انفیکیشنز کے خلاف فرسٹ لائن آف ڈیفنس سمجھا جاتا ہے، مگر جسم میں اس کے خلاف مزاحمت پیدا ہونے کی صورت میں یہ ادویات ان مریضوں کے لیے مؤثر نہیں رہتیں۔
عالمی سطح پر اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کی سب سے بڑی شرح انڈیا میں ہے۔ ہر سال 60 ہزار نوزائیدہ بچوں کی موت صرف اینٹی بائیوٹک رزسٹنٹ نیو نیٹل انفیکشنز کی وجہ سے ہوتی ہے۔
محققین کے مطابق کووڈ 19 کی عالمی وبا کے دوران اینٹی بائیوٹکس کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔
ہفتوں طویل کمبھ میلہ چار انڈین شہروں میں ہوتا ہے۔ اس دوران یاتری ان شہروں کے ساحل پر دریا کے پانی میں مقدس ڈبکی لگاتے ہیں۔
امریکہ میں مقیم محققین نے تقریباً 70,000 مریضوں سے ڈیٹا اکٹھا کیا جو 2013 اور 2015 میں پریاگ راج – جسے الہ آباد بھی کہا جاتا ہے – اور ناسک کے شہروں میں منعقد ہونے والے دو سالانہ میلوں میں 40 سے زیادہ کلینکس میں آئے تھے۔
دونوں تہواروں میں 100 ملین سے زائد زائرین نے شرکت کی۔ 2013 میں پریاگ راج میں مریضوں کی اوسط عمر 46 سال تھی اور ان میں زیادہ تر مرد تھے۔ ان کی عام علامات میں بخار، کھانسی، ناک بہنا، پٹھوں میں درد اور اسہال شامل ہیں۔
محققین کو معلوم ہوا کہ کلینک میں ایک تہائی سے زیادہ مریضوں کو اینٹی بائیوٹکس تجویز کی گئی تھیں۔ پریاگ راج میں اوپری سانس کی نالی کے انفیکشن کی اطلاع دینے والے تقریباً 69 فیصد مریضوں کو سرکاری کلینک سے مفت اینٹی بائیوٹکس ملیں۔
محققین نے حال ہی میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں کہا ہے کہ ’یہ ایک خطرناک حد تک بلند شرح ہے۔ اوپری سانس کی نالی کے انفیکشن اکثر وائرل ہوتے ہیں۔‘


0 Comments