امریکی مصنف مارک ٹوئین سے ایک کہاوت منسوب کی جاتی
ہے کہ ’سگریٹ چھوڑنا آسان ہے، میں نے ایک سو مرتبہ سگریٹ چھوڑی ہے۔‘ مارک ٹوئین بعد میں پھیپھڑوں کے کینسر کے باعث چل بسے تھے۔
ایک معاشرے کے طور پر ہم سگریٹ، شراب اور دیگر منشیات کی لت ہونا تو تسلیم کرتے ہیں اور اس پر بھی اتفاق کرتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے مضر ہیں۔ مگر جب بات آتی ہے سیکس کی تو ماہرین میں اس بات پر متفق نہیں کہ کیا کسی شخص کو اس کی لت لگ سکتی ہے۔
سیکس کی لت کو فی الحال کسی کلینکل بیماری کا درجہ حاصل نہیں ہے جس کی وجہ سے ہمارے پاس سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔
مگر سیکس کی مبینہ لت سے متاثرہ افراد کے لیے بنائی گئی ایک سیلف ہیلپ ویب سائٹ کے ذریعے اس سائٹ پر 2013 سے اب تک سائن اپ کرنے والے 21000 افراد کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے 91 فیصد مرد تھے اور ان میں سے صرف 10 فیصد نے اس حوالے سے اپنے ڈاکٹر کی مدد مانگی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
امریکہ اور اور برطانیہ میں ذہنی امراض کے حوالے سے استعمال کیا جانے والا اہم کتابچہ ’ڈائگناسٹک اینڈ سٹیٹسٹیکل مینوئل آف منٹل ڈس آرڈرز‘ کے سنہ 2013 ایڈیشن میں سیکس کی لت کو بطور ایک بیماری شامل کیے جانے پر غور کیا گیا تھا تاہم ناکافی شواہد کی بنا پر اسے شامل نہیں کیا گیا۔
تاہم عالمی ادارہِ صحت کی جانب سے تیار کیے جانے والے کتابچے انٹرنیشنل کلاسیفیکیشن آف ڈیزیز میں ’مجبور جنسی رویے‘ کو شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اس سے پہلے جوئے کی لت کو ’مجبور رویے‘ کے زمرے میں تصور کیا جاتا تھا اور سنہ 2013 میں جوئے کی لت اور کھانے کے حوالے سے ذہنی مسائل کو نئے شواہد سامنے آنے کے بعد رسمی طور پر بیماریوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا تھا۔
کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ سکیس کی لت بھی اسی طرح ایک بیماری کے طور پر مانی جائے گی۔



0 Comments