Ticker

Header Ads Widget

Responsive Advertisement

سعد لمجرد پر ریپ کے الزامات اور چھ سال قید کی سزا


  


مراکش، امریکہ اور فرانس میں خواتین کی جانب سے سعد لمجرد پر ریپ کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

سنہ 2010 میں پہلی بار نیو یارک میں ایک امریکی خاتون نے سعد لمجرد پر ریپ کا الزام لگایا تھا جس کے بعد وہ ضمانت ملنے پر امریکہ سے باہر چلے گئے تھے۔ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان اس کیس میں تصفیہ ہو گیا تھا۔

پھر فرانس میں 2016 اور 2018 کے دوران ان پر ریپ کے الزامات سامنے آئے۔

ان الزامات کے پیش نظر اگست 2018 کے دوران انھیں فرانسیسی حکام نے سین-تروپے نامی ساحلی و سیاحتی مقام سے گرفتار کر لیا تھا۔ قریب ڈیڑھ لاکھ یورو کے عوض ضمانت پر رہائی کے بعد ان پر بغیر اجازت فرانس چھوڑنے پر پابندی لگائی گئی تھی۔

مراکشی گلوکار رواں سال اپریل کے دوران اس وقت خبروں میں آئے جب فرانس کی ایک عدالت نے 2016 کے کیس میں انھیں ریپ کے الزام میں چھ سال قید کی سزا سنائی۔ عدالتی کارروائی کے فوراً بعد انھیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔

سعد کے خلاف مقدمہ دائر کرنے والی خاتون لارا پریول نے نومبر 2017 میں اپنی شناخت خود ظاہر کرتے ہوئے یوٹیوب پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی تھی جس میں انھوں نے سعد پر ریپ اور جسمانی تشدد کا الزام لگایا گیا اور تشدد زدہ حصوں کی تصاویر دکھائی تھیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ سعد پر الزامات عائد کرنے کے بعد سے انھیں قتل کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ ’میرے بارے میں کئی لوگ بات کر رہے تھے، میری تصحیک کر رہے تھے۔ فیملی اور دوستوں کے سوا کسی نے میرا ساتھ نہ دیا۔‘

ٹرائل کے دوران سعد کے وکلا نے اس الزام کی تردید کی تھی کہ سعد نے 2016 میں پیرس کے ایک لگژری ہوٹل میں


شراب اور کوکین کے نشے میں اس نوجوان خاتون کا ریپ کیا تھا۔ سعد لمجرد نے ٹرائل کے پہلے روز یہ تسلیم کیا تھا کہ وہ بعض اوقات شراب اور منشیات استعمال کرتے رہے ہیں مگر اب چھوڑ چکے ہیں۔ انھوں نے پریزائڈنگ مجسٹریٹ کو ریکارڈ کرائے گئے بیان میں کہا تھا کہ ’میں نے وہ بالکل نہیں کیا جس کا مجھ پر الزام لگا ہے۔‘

عدالتی دستاویزات کے مطابق 20 سالہ خاتون سعد لمجرد سے پیرس کے ایک نائٹ کلب میں ملی تھیں اور ان کے ساتھ ہوٹل میں گئی تھیں۔ اس کے مطابق خاتون کا کہنا تھا کہ انھوں نے کئی بار ریپ سے قبل سعد کو خود سے دور کرنے کی کوشش کی جبکہ بعد میں وہ کمرے سے نکل کر چلی گئیں تھیں۔ ہوٹل کے عملے نے عدالت کو بطور عینی شاہدین بتایا کہ انھوں نے خاتون کو روتے ہوئے اور پریشان حالت میں دیکھا تھا۔

فیصلے کے بعد سعد لمجرد کے وکیل نے کہا تھا کہ انھوں اس کے خلاف کریمینل کورٹ آف پیرس میں اپیل دائر کی تھی۔ اپریل 2023 کے دوران انھیں عارضی طور پر رہا کر دیا گیا تھا۔

فرانسیسی اخبار لے پیرسین کے مطابق ماضی میں دوران حراست فرانسیسی حکام نے سعد سے ایک مراکشی نژاد فرانسیسی خاتون پر مراکشی شہر کاسابلانکا میں 2015 کے دوران تشدد کے الزام کی بھی تفتیش کی تھی۔

مذکورہ خاتون کے مطابق انھوں نے پولیس کو شکایت درج کروائی تھی مگر اپنے خاندان کے دباؤ کے باعث شکایت واپس لے لی تھی۔ اخبار کے مطابق خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ سعد نے ان کی پتلون پھاڑ دی تھی، منھ پر مکا رسید کیا تھا اور بعد میں چھوڑ دیا تھا۔ تاہم سعد نے اس الزام کی بھی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ مذکورہ خاتون کو جانتے بھی نہیں۔

گلوکار کے کئی فینز ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ انھیں ہمسایہ ملک الجزائر کی ایک ’سازش‘ میں پھنسایا گیا۔ دونوں ملکوں کے تعلقات تناؤ کا شکار رہے ہیں۔

                                                            

Post a Comment

0 Comments