ایک کچے مکان کے چھوٹے سے کمرے کے اندر بند ہو کر رہتی
رہی اور کسی کو اس کا علم بھی نہیں ہوا۔ یہ کہانی انڈین ریاست کیرالہ کے ایک گاؤں کی ہے۔ اس لڑکی کو کسی نے قید نہ ہی وہ کسی قسم کے تشدد کا شکار تھی۔
سن کر حیرانی ہوتی ہے کہ کوئی انسان برسوں تک ایک کمرے میں بند ہو کر رہتا رہے اور خوش بھی ہو وہ بھی ایک ایسے گھر میں جہاں دوسرے افراد بھی موجود تھے لیکن انھیں دس سال معلوم ہی نہیں ہوا کہ چھونے سے گھر کے اس ایک کمرے میں ایک نہیں دو افراد رہ رہے ہیں۔
آپ آگے کسی قسم کے اندازے لگانے سے پہلے یہ جان لیجیے کہ وہ لڑکی پاگل نہیں، ہاں، کسی کے پیار میں پاگل ضرور کہہ سکتے ہیں ۔
نینمارا نامی گاؤں کی پولیس رحمان اور سجیتا کی کہانی سن کر اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں۔
رحمان اب 32 برس کے ہیں اور سجیتا کی عمر 28 سال ہے۔
مقامی پولیس اہلکار دیپک کمار نے بی بی سی کو بتایا ’ہم نے دونوں سے الگ الگ تحقیقات کی ہیں۔ دونوں کے موقف میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے
ہیں۔ ایسا کچھ نہیں ہے جس کی بنیاد پر شک کیا جائے۔ ‘
یہ کہانی دنیا کے سامنے کیسے آئی؟
تین ماہ قبل رحمان اپنے والدین کے گھر سے غائب ہو گئے تھے۔
مواد پر جائیں
ڈرامہ کوئین
ڈرامہ کوئین
’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا
قسطیں
مواد پر جائیں
چند دن پہلے رحمان اور سجیتا کی لو سٹوری سے اس وقت پردہ اٹھا جب رحمان کے بھائی نے انہیں ایک نزدیکی گاؤں میں گاڑی میں دیکھ لیا۔ انہوں نے فوراً ٹریفک پولیس کو مطلع کیا اور بتایا کہ ان کے والدین نے بھائی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی ہوئی ہے۔
جس گاؤں میں ان کے بھائی نے انہیں دیکھا تھا وہ ان کے والدین کے گاؤں سے محض آٹھ کلومیٹر دور تھا۔
پولیس رحمان کو تھانے لے آئی، جہاں انہوں نے اپنی محبت کی داستان سنائی۔
یہ بھی پڑھیے
تقسیم کی ایک نامکمل محبت کی کہانی
لاک ڈاؤن کے دنوں میں پُرانی محبت سے تعلق بحال کرنے کی کہانیاں
'اپنی اپنی محبت کی خاطر والدین نے مجھے چھوڑ دیا'
رحمان اور سجیتا ہمسائے تھے اور دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہوگئی۔
سجیتا دو فروری 2010 کو رحمان کے والدین کے گھر رہنے آ گئیں۔ اس وقت سجیتا کے گھر والوں نے ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی لیکن ان کا کچھ پتا نہیں چل سکا تھا۔ لیکن سجیتا رحمان کے گھر کے اس کم
پولیس نے اس وقت کئی لوگوں سے تفتیش کی تھی جس میں رحمان بھی شامل تھے۔ رحمان الیکٹرک میکینک ہیں اور پینٹ کا کام بھی کرتے ہیں۔ وہ کام کے سلسلے میں گھر سے باہر بھی رہتے تھے لیکن بہت زیادہ نہیں۔ ان کے والدین کام کے لیے ہر روز گھر سے باہر جاتے ہیں۔
سنجیتا نے دس برس کن حالات میں گزارے؟
پولیس اہلکار کا دعویٰ ہے کہ ’رحمان ہر روز کچن سے کھانا لے کر سنجیتا کے پاس کمرے میں چلے جاتے تھے اور خود کو اندر سے بند کر لیتے تھے۔ رحمان اسے طرح سجیتا کے کھانے پینے کا خیال رکھا کرتے تھے


0 Comments