چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف اٹک جیل میں سائفر کیس کی سماعت کرتے ہوئے خصوصی عدالت نے ان کے ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کر دی ہے۔
بدھ کو اٹک جیل میں سائفر کیس سے متعلق سماعت کرتے ہوئے خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 26 ستمبر تک توسیع کر دی ہے۔
واضح رہے کہ سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو پہلے بھی 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اٹک جیل میں قید رکھا گیا تھا۔ آج ان کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر آج دوبارہ اس مقدمے کی سماعت کی گئی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں ہوئی تھی۔ جبکہ عمران خان نے گذشتہ سماعت کا اٹک جیل عدالت منتقلی کا نوٹیفکیشن ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کو دلائل سننے کے بعد اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
اس سے قبل اٹک جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین کے وکیل سلمان صفدر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام درخواستیں زیر التوا ہیں سب سے اہم درخواست ضمانت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے کے بعد آج دیکھتے ہیں کے سرکار کیا کہتی ہے۔ سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ پراسیکیوشن ضمانت کی درخواست پر عدالت کی معاونت نہیں کر رہی۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت آج اٹک جیل میں ہوگی
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت آج (بدھ) اٹک جیل میں ہو گی۔ اس مقدمے کی سماعت سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اٹک جیل میں کی جائے گی۔
وزارت قانون و انصاف نے منظوری دیتے ہوئے اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اٹک جیل میں قید ہیں۔ 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر بدھ کو دوبارہ اس مقدمے کی سماعت ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں ہوئی تھی۔
عمران خان نے گذشتہ سماعت کا اٹک جیل عدالت منتقلی کا نوٹیفکیشن ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کو دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کیس کی سماعت کرنے آج اٹک جیل جائیں گے۔
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے نجی ٹی وی جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ ملک میں عام انتخابات سے متعلق کسی تاریخ کا اعلان کریں۔
انھوں نے کہا کہ صدر مملکت اب آئینی امور میں چھیڑ چھاڑ نہ کریں اور معمول کے معاملات دیکھیں۔
ان کے مطابق یہ اب الیکشن کمیشن پر ہے کہ وہ کب ملک میں عام انتخابات کروا سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی پی ڈی ایم حکومت میں دوسری بڑی سیاسی جماعت تھی جس نے یہ فیصلہ کیا کہ نئی مردم شماری کے تحت آئندہ عام انتخابات منعقد کیے جائیں۔
شہزاد ملک، بی بی سی اردونہیں


0 Comments